اسلام میں برہمن واد کی کوئی گنجائش نہیں



از قلم:- ✍️ســــائـــل امام اعــــظــــم

محمد کلیـــــــم حـنفـــی رضـــوی غـــفرلـــہ القــــوی، قصر ابو حنیـــفہ کرلا (مغرب) مــمبــئ-٧٠ مہــاراشٹــر الـــھند

~~~~~~~~~~~~~~~~



ہندو مذہب کی بنیاد ورن آشرم (Varna System) پر قائم ہے، جس کے مطابق انسانوں کو چار طبقات میں تقسیم کیا گیا:



① برہمن (Brahmin):

مذہبی پیشوا، پنڈت اور مذہبی رسوم و عبادات کے نگران۔ ہندو معاشرے میں انہیں سب سے اعلیٰ اور مقدس طبقہ تصور کیا جاتا ہے۔



② کشتریہ (Kshatriya):

حکمران، بادشاہ، سپہ سالار اور جنگجو طبقہ، جن کی ذمہ داری حکومت، دفاع اور رعایا کی حفاظت سمجھی جاتی ہے۔



③ ویشیہ (Vaishya):

تاجر، زمیندار، صنعت کار، مویشی پالنے والے اور کاروباری طبقہ، جن کے ذمہ تجارت اور معیشت کو چلانا ہوتا ہے۔



④ شودر (Shudra):

خدمت، گندگی صاف کرنا، مزدوری اور دیگر جسمانی محنت کرنے والا طبقہ، جسے اس نظام میں سب سے کمتر درجہ دیا گیا اور صدیوں تک سماجی امتیاز کا سامنا کرنا پڑا۔



صدیوں تک اسی تفریق کی بنیاد پر انسانوں کی عزت و ذلت کا فیصلہ ہوتا رہا، حالانکہ کسی انسان کا حسب و نسب اس کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔

جب اسلام کا آفتاب طلوع ہوا تو اس نے سب سے پہلے اسی جاہلانہ تصور پر ضرب لگائی۔ اسلام نے اعلان کیا کہ تمام انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں، اس لیے کسی عربی کو عجمی پر، کسی گورے کو کالے پر، کسی قبیلے کو دوسرے قبیلے پر اور کسی خاندان کو دوسرے خاندان پر کوئی پیدائشی فضیلت حاصل نہیں۔ فضیلت کا واحد معیار تقویٰ، ایمان اور صالح عمل ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾

"اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کی پہچان کرسکو، بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔"

(سورۂ حجرات: 13)



رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا:

"کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں، مگر تقویٰ کے سبب۔"

(مسند احمد، حدیث: 22978)



اسی حقیقت کو ڈاکٹر اقبال نے اپنے دلنشین اشعار میں یوں بیان کیا:

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز،

نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز..

بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے،

تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے.!



اسلام کی یہی مساوات، عدل اور انسان دوستی وہ عظیم وصف تھا جس نے ہندوستان کے مظلوم طبقات کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ جن لوگوں کو صدیوں سے ذات پات کی بنیاد پر حقیر سمجھا جاتا تھا، انہوں نے اسلام میں عزت، مساوات اور اخوت دیکھی، چنانچہ بڑی تعداد میں اسلام قبول کیا۔

مگر افسوس! وقت گزرنے کے ساتھ بعض مسلمانوں میں بھی نسب اور خاندان پر فخر کرنے کا رجحان پیدا ہوگیا۔ سید، شیخ، خان، پٹھان، انصاری، قریشی اور دیگر نسبتیں دراصل یہ صرف تعارف اور نکاح میں کفو کی رعایت کے لیے تھیں، نہ کہ ایک دوسرے پر برتری جتانے کے لیے۔



رسول اللہ ﷺ نے صاف ارشاد فرمایا:

"جسے اس کا عمل پیچھے چھوڑ دے، اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا۔"

(صحیح مسلم، حدیث: 2699)



اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ﴾

"پھر جب صور پھونکا جائے گا تو اس دن نہ نسب کام آئے گا اور نہ ایک دوسرے سے کوئی سوال کرے گا۔"

(سورۂ مؤمنون: 101)

افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ نسب کو اس قدر بڑھا دیتے ہیں کہ گویا وہ شریعت سے بالاتر ہو گئے ہوں۔ حالانکہ اسلام میں کوئی شخص خواہ کتنا ہی بلند نسب کیوں نہ رکھتا ہو، وہ قرآن و سنت کا پابند ہے۔ نسب انسان کو ذمہ داری سے آزاد نہیں کرتا اور نہ ہی اسے گناہوں کا پروانۂ مل سکتا ہے۔

اسی طرح ایک نہایت اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض لوگ اپنے نسب کی بنیاد پر صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر زبان درازی کرنے کی جسارت کرتے ہیں۔ حالانکہ صحابۂ کرام وہ مقدس جماعت ہیں جن کی شان میں قرآن نازل ہوا اور جن کے ایمان، اخلاص اور خدمات کی گواہی خود رب العالمین نے دی۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ﴾

"اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔"

(سورۂ توبہ: 100)

لہٰذا آج کے دور میں کوئی شخص خواہ اپنے آپ کو کتنا ہی عالی نسب کیوں نہ سمجھے، اسے یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ان مقدس ہستیوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بنائے جن کے ایمان اور فضیلت پر خود قرآن مہرِ تصدیق ثبت کر چکا ہے۔ صحابۂ کرام پر عدالت قائم کرنا یا ان کی تنقیص کرنا قرآن کے مزاج کے خلاف ہے۔

اسی طرح ایک اور افسوس ناک رجحان یہ ہے کہ بعض مقامات پر پیری مریدی کو اصلاحِ باطن کے بجائے ذاتی تقدیس اور دنیاوی مفادات کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ بعض افراد عوام کی سادہ لوح عقیدت سے فائدہ اٹھا کر یہ تاثر دیتے ہیں کہ نجات اور جنت گویا ان کی ذات سے وابستہ ہے، حالانکہ اسلام کی تعلیم اس کے بالکل برعکس ہے۔

قرآن مجید اعلان کرتا ہے:

﴿كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ﴾

"ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔"

(سورۂ مدثر: 38)



یہ آیت واضح کرتی ہے کہ نجات کسی خاندان، کسی سلسلے، کسی پیر سے وابستگی یا کسی شخصیت سے محض عقیدت رکھنے پر موقوف نہیں، بلکہ ایمان، اخلاص، اتباعِ سنت، اعمالِ صالحہ اور خاتمہ بالخیر پر موقوف ہے۔

لہٰذا اسلام کا پیغام بالکل واضح ہے:

نہ برہمن واد… نہ نسلی تفاخر… نہ شخصیت پرستی… نہ نسب پر غرور…

بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی، رسول اللہ ﷺ کی اطاعت، صحابۂ کرام اور اہلِ بیتِ اطہار سے محبت، اور تقویٰ و عملِ صالح ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی عطا کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کی صحیح تعلیمات کو سمجھنے، ان پر عمل کرنے، اور ہر قسم کے نسلی، خاندانی اور شخصی غرور سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Previous Post Next Post