✍️ ســــائـــل امام اعــــظــــم
محمد کلیـــــــم حـنفـــی رضـــوی غـــفرلـــہ القــــوی، قصر ابو حنیـــفہ کرلا (مغرب) مــمبــئ-٧٠ مہــاراشٹــر الـــھند
________
لباس میں سادگی، وقار اور اتباعِ سنت
علمائے کرام کے نام ایک مخلصانہ پیغام
علمائے کرام انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے وارث ہیں۔ یہ نسبت محض ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری بھی ہے۔ وارث وہی ہوتا ہے جو اپنے مورث کے علم و طریقے کو آگے بڑھائے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
««إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَرَّثُوا الْعِلْمَ»»
"بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں، اور انبیاء نے دینار و درہم کا ترکہ نہیں چھوڑا، بلکہ علم کا ترکہ چھوڑا۔"
(سنن ابی داؤد، حدیث 3641؛ جامع ترمذی، حدیث 2682)
جب عالم کو وارثِ انبیاء کہا گیا تو پھر اس کی ذمہ داری صرف کتابیں پڑھنے اور پڑھانے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کی چال ڈھال، گفتگو، اخلاق، وضع قطع اور طرزِ زندگی بھی دین کی نمائندگی کرتی ہے۔
عالم صرف بولتا نہیں، عوام اسے دیکھتی بھی ہے
عوام اپنے علماء سے صرف مسائل نہیں سیکھتی؛ وہ ان کے عمل سے بھی دین کا مزاج سمجھتی ہے۔
عالم سادگی اختیار کرتا ہے تو عوام سادگی سیکھتی ہے۔
عالم سنت کی پابندی کرتا ہے تو عوام سنت کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔
عالم تکلف اور نمود سے بچتا ہے تو عوام بھی بے جا نمائش سے بچنے کا سبق لیتی ہے۔
اور اگر اہلِ علم ہی فیشن، نمود و نمائش اور غیر ضروری تکلفات کو اپنی شناخت بنانے لگیں تو پھر عوام سے سادگی، قناعت اور اتباعِ سنت کی توقع کس طرح کی جائے؟
منبر سے کہی ہوئی بات کان تک پہنچتی ہے، لیکن عالم کا عمل دل تک اترتا ہے۔
لباس میں رنگ نہیں، سنت اور سادگی مطلوب ہے
یہ بات بالکل واضح رہنی چاہیے کہ اسلام نے کسی رنگ کے لباس کو حرام قرار نہیں دیا۔ رنگ بذاتِ خود لباس کی حرمت کا سبب نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
«يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ»
اے آدم کی اولاد اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو بیشک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں
(سورۃ الأعراف، 7:31)
لہٰذا مسئلہ کسی خاص رنگ کی حرمت کا نہیں؛ اصل مطلوب یہ ہے کہ لباس شرعی حدود کے مطابق، پاکیزہ، باوقار، تکبر و نمود سے پاک اور سنت کے مزاج سے ہم آہنگ ہو۔
ہاں، سفید لباس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے خصوصی ترغیب ارشاد فرمائی ہے۔
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
««الْبَسُوا الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ»»
"سفید لباس پہنو، کیونکہ وہ زیادہ پاکیزہ اور عمدہ ہے، اور اپنے مُردوں کو اسی میں کفن دو۔"
(جامع ترمذی، حدیث 2810؛ امام ترمذی نے اسے حسن صحیح فرمایا)
ایک دوسری روایت میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
««الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ»»
"اپنے لباس میں سفید لباس پہنو، کیونکہ یہ تمہارے بہترین لباس میں سے ہے۔"
(سنن ابی داؤد، حدیث 4061)
پس اہلِ علم کے لیے سفید اور سادہ لباس اختیار کرنا یقیناً ایک خوبصورت نبوی نسبت اور عملی یاد دہانی بن سکتا ہے۔
رنگ برنگے عمامے، جبے اور ٹوپیاں
آج بعض جگہ یہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ علماء کے لباس میں غیر معمولی رنگوں کی کثرت، قیمتی و نمایاں کپڑوں کا اہتمام اور وضع قطع میں نت نئے انداز نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔
پھر عرض ہے کہ محض رنگین لباس کو حرام کہنا مقصود نہیں؛ بلکہ سوال یہ ہے کہ:
کیا ایک عالمِ دین کی شناخت سادگی، وقار اور سنت سے ہونی چاہیے یا لباس کی نمائش سے؟
عمامہ ہو تو باوقار ہو۔
جبہ ہو تو سادہ اور سنجیدہ ہو۔
ٹوپی ہو تو سنت کی یاد دلائے۔
لباس صاف ستھرا اور عمدہ ہو، مگر لباس خود شخصیت کا موضوع نہ بن جائے۔
کیونکہ عالم کی اصل زینت اس کا لباس نہیں، اس کا علم، تقویٰ، تواضع، اخلاص اور اتباعِ رسول ﷺ ہے۔
ٹخنوں سے نیچے پاجامہ
یہاں معاملہ صرف ذوق، فیشن یا شخصی پسند کا نہیں رہتا، بلکہ احادیثِ مبارکہ میں اس بارے میں واضح تنبیہ وارد ہوئی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
««مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ»»
"پاجامہ کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو وہ جہنم میں ہے۔"
(صحیح بخاری، حدیث 5787)
اور تکبر کے ساتھ لباس لٹکانے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے سخت وعید بیان فرمائی۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
««مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»»
"جو شخص تکبر کے ساتھ اپنا کپڑا گھسیٹ کر چلے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا۔"
(صحیح بخاری، حدیث 5786)
صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا واقعے سے دلیل پکڑنا
جو لوگ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے واقعے سے استدلال کرتے ہوئے ٹخنوں کے نیچے پاجامہ پہنتے ہیں وہ ذہن میں رکھیں یہاں بھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہمارے لیے نہایت سبق آموز ہے۔
آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
««إِنَّ أَحَدَ شِقَّيْ إِزَارِي يَسْتَرْخِي، إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ مِنْهُ»»
"یا رسول اللہ ﷺ! میرے تہبند کا ایک کنارہ کبھی ڈھیلا ہو کر نیچے ہوجاتا ہے، مگر میں اس کا برابر خیال رکھتا ہوں۔"
تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
««لَسْتَ مِمَّنْ يَفْعَلُهُ خُيَلَاءَ»»
"آپ ان لوگوں میں سے نہیں جو یہ کام تکبر کی وجہ سے کرتے ہیں۔"
(صحیح بخاری، حدیث 5786؛ سنن ابی داؤد، حدیث 4085)
غور فرمائیے!
یہ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ ہیں، جن کے تقویٰ، اخلاص اور عظمت پر امت کا اجماع ہے؛ لیکن لباس کے معاملے میں بھی اس قدر محتاط ہیں کہ جب کپڑا بے اختیار نیچے ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے تو اس کا اہتمام فرماتے ہیں۔
تو پھر ہم اپنے لباس کے معاملے میں کتنے محتاط ہیں؟
علماء کا لباس، عوام کے لیے خاموش درس ہے
عالم جب عوام کے سامنے آتا ہے تو صرف اس کی زبان نہیں بولتی، اس کی شخصیت بھی بولتی ہے۔
اس کی سادگی ایک درس ہے۔
اس کا وقار ایک درس ہے۔
اس کی سنت پسندی ایک درس ہے۔
اس کی تواضع ایک درس ہے۔
اور اس کا لباس بھی ایک خاموش دعوت بن جاتا ہے۔
عوام اپنے علماء کو دیکھ کر بہت کچھ سیکھتی ہے۔ بچے علماء کو دیکھ کر لباس اختیار کرتے ہیں، نوجوان علماء کی وضع قطع سے متاثر ہوتے ہیں، عام مسلمان علماء کے عمل کو دین کا نمونہ سمجھتے ہیں۔
اسی لیے اہلِ علم کی ذمہ داری عام آدمی سے کہیں زیادہ ہے۔
قرآنِ کریم نے رسول اللہ ﷺ کو ہمارے لیے اسوۂ حسنہ قرار دیتے ہوئے فرمایا:
«لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا»
"بے شک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہے۔"
(سورۃ الأحزاب، 33:21)
جب پوری امت کے لیے رسول اللہ ﷺ کی سیرت اسوۂ حسنہ ہے، تو علماء، جو اس امت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں، ان کے لیے اتباعِ سنت کا اہتمام کس قدر ضروری ہونا چاہیے!
سادگی کا مطلب بدنظمی نہیں
یہاں ایک بات مزید سمجھنے کی ہے:
سادگی کا مطلب یہ نہیں کہ لباس میلا ہو، بوسیدہ ہو یا بے سلیقہ ہو۔
اسلام پاکیزگی، نفاست اور خوبصورتی سے نہیں روکتا۔
بلکہ مطلوب یہ ہے کہ لباس:
صاف ہو، پاکیزہ ہو، باوقار ہو، شرعی حدود میں ہو، تکبر و نمود سے پاک ہو اور مطابق سنت ہو...
لباس اچھا ہو، مگر دل میں لباس کی بڑائی نہ ہو۔
لباس نفیس ہو، مگر شخصیت لباس کی نمائش نہ بن جائے۔
عمامہ خوبصورت ہو، مگر عمامے سے زیادہ علم و عمل نمایاں ہو۔
جبہ عمدہ ہو، مگر جبے سے زیادہ تقویٰ نظر آئے۔
اے وارثانِ انبیاء!
یہ چند سطریں کسی فردِ خاص پر اعتراض نہیں، بلکہ اپنے لیے اور اپنے تمام اہلِ علم بھائیوں کے لیے ایک مخلصانہ یاد دہانی ہیں۔
ہم سب کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔
کیا ہمارا لباس ہماری نسبتِ علم کے شایانِ شان ہے؟
کیا ہماری وضع قطع سنت کی یاد دلاتی ہے؟
کیا ہماری سادگی عوام کے لیے نمونہ بنتی ہے؟
کیا ہماری زندگی ہماری تقریروں کی تصدیق کرتی ہے؟
اور کیا ہمارے لباس کو دیکھ کر کوئی یہ محسوس کرتا ہے کہ یہ شخص دنیا کی نمائش نہیں بلکہ دین کی خدمت کے لیے نکلا ہے؟
اگر ہم چاہتے ہیں کہ عوام سنت کی پابندی کرے، تو پہلے ہمیں اپنی زندگیوں میں سنت کو نمایاں کرنا ہوگا۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ عوام سادگی اختیار کرے، تو علماء کو سادگی کا عملی نمونہ بننا ہوگا۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ عوام اسراف اور نمود سے بچے، تو اہلِ علم کو خود اس سے دور رہنا ہوگا۔
کیونکہ عوام علماء کی صرف باتیں نہیں سنتی، علماء کی زندگیاں بھی پڑھتی ہے۔
آخر میں بس اتنی سی گزارش:
لباس ایسا ہو جو شخصیت کو چھپائے نہیں، سنوارے؛
مگر شخصیت ایسی ہو کہ لباس سے زیادہ نمایاں ہو۔
عمامہ سر پر ہو، مگر سنت دل میں ہو۔
جبہ بدن پر ہو، مگر تقویٰ کردار میں ہو۔
لباس سفید ہو تو خوب، سادہ ہو تو مزید خوب؛
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ زندگی مصطفیٰ ﷺ کی سنت کے رنگ میں رنگی ہوئی ہو۔
اللہ تعالیٰ تمام علمائے کرام کو علم کے ساتھ عمل، عمل کے ساتھ اخلاص، اخلاص کے ساتھ تواضع، اور ہر قدم پر سنتِ مصطفیٰ ﷺ کی کامل پیروی نصیب فرمائے۔
آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ
